دشتِ مَدینہ کی ہے عجب پربہار صبح
مونھ دھو کے جوئے شیر میں آئے ہزار صبح
لِلّٰہ اپنے جلوۂ عارِض کی بھیک دے
روشن ہیں ان کے جلوۂ رنگیں کی تابشیں
رکھتی ہے شامِ طیبہ کچھ ایسی تجلیاں
نسبت نہیں سحر کو گریبانِ پاک سے
آتے ہے پاسبانِ دَرِ شہ فلک سے روز
اے ذَرَّۂ مَدینہ خدا را نگاہِ مہر
زُلف حضورِ عارِضِ پرنور پر نثار
نورِ وِلادَتِ مہِ بطحیٰ کا فیض ہے
ہر ذَرَّۂ حرم سے نمایاں ہزار مہر
گیسو کے بعد یاد ہو رخسارِ پاک کی
کیا نورِ دِل کو نجدیٔ تیرہ دَروں سے کام
حُسنِ شبابِ ذرۂ طیبہ کچھ اَور ہے
بس چل سکے تو شام سے پہلے سفر کرے
مایوس کیوں ہو خاک نشیں حُسنِ یار سے
کیا دشتِ پاکِ طیبہ سے آتی ہے اے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
