آہ اب وقتِ رخصت ہے آیا
صدمۂ ہِجر کیسے سہوں گا
بے قراری بڑھی جا رہی ہے
دل ہوا جاتا ہے پارہ پارہ
کس طرح شوق سے میں چلا تھا
آہ اب چُھوٹتا ہے مدینہ
کُوئے جاناں کی رنگیں فَضاؤ
لو سلام آخِری اب ہمارا
کاش! قسمت مِرا ساتھ دیتی
جان قدموں پہ قربان کرتا
سوزِ الفت سے جلتا رہوں میں
چاہے دیوانہ سمجھے زمانہ
میں جہاں بھی رہوں میرے آقا
التجا میری مقبول فرما
کچھ نہ حُسنِ عمل کر سکا ہوں
بس یِہی ہے مِرا کُل اَثاثہ
آنکھ سے اب ہوا خون جاری
جلد عطارؔ کو پھر بلانا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
