رنگ چمن پسند نہ پھولوں کی بو پسند
اپنا عزیز وہ ہے جسے تو عزیز ہے
مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس
ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجب
کیونکر نہ چاہیں تیری گلی میں ہوں مٹ کے خاک
ہے خاکسار پر کرمِ خاص کی نظر
قل کہہ کر اپنی بات بھی لب سے تِرے سنی
حور و فرشتہ جن و بشر سب نثار ہیں
ان کے گناہگار کی اُمید عفو کو
طیبہ میں سر جھکاتے ہیں خاکِ نیاز پر
ہے خواہشِ وصالِ درِ یار اے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
