رحمت نہ کس طرح ہو ُگنہ گار کی طرف
جانِ جناں ہے دشت مدینہ تری بہار
اِنکار کا وُقوع تو کیا ہو کریم سے
جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی
مونھ اس کا دیکھتی ہیں بہاریں بہشت کی
جاں بخشیاں مسیح کو حیرت میں ڈالتیں
محشر میں آفتاب اُدھر گرم اَور اِدھر
پھیلا ہوا ہے ہاتھ ترے دَر کے سامنے
گوبے شمار جرم ہوں گو بے عدد گناہ
یوں مجھ کو موت آئے تو کیا پوچھنا مرا
کعبے کے صدقے دل کی تمنا مگر یہ ہے
دے جاتے ہیں مراد جہاں مانگئے وہاں
روکے گی حشر میں جو مجھے پاشکستگی
آہیں دلِ اَسیر سے لب تک نہ آئی تھیں
دیکھی جو بے کسی تو اُنہیں رحم آگیا
بٹتی ہے بھیک دوڑتے پھرتے ہیں بے نوا
عالم کے دِل تو بھرگئے دولت سے کیا عجب
آنکھیں جو بند ہوں تو مقدر کھلے حسنؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
