مومنو وقت اَدَب ہے
جائے آداب و طرب ہے
غنچے چٹکے پھول مہکے
روتا ہے شیطاں یہ کہہ کے
خواہشِ زُلفِ نبی میں
جھوم کر آئیں نسیمیں
بدلیاں رحمت کی چھائیں
اب مرادیں دِل کی پائیں
بج رہے ہیں شادیانے
ہر زباں پہ ہیں ترانے
اَبرِ رَحمت چھا گیا ہے
بابِ رَحمت آج وا ہے
قصرِ کسریٰ کانپتا ہے
ہر طرف سے یہ صدا ہے
آتا وہ ماہِ لقا ہے
دو جہاں میں غَلْغَلَہ ہے
آنے والا ہے وہ پیارا
کعبے کا چمکا ستارہ
آتا ہے شاہِ حکومت
ہر نبی نے دی بشارت
ہونے والی وہ سحر ہے
مقدمِ خیر البشر ہے
اُٹھو آیا تاج والا
سب کہو اے ماہِ طیبہ
— Jamil Ur Rehman Qadri\
