اے کاش کہ آجائے عطارؔ مدینے میں
کب تک میں پھر وں در در مرنے بھی دو اب سرور!
روضے کے قریب آکر گِر جاؤں میں غش کھاکر
روتی ہوئی آنکھوں سے بیتاب نگاہوں سے
دنیا کے غموں کی تم للہ دوا دیدو
مل جائے شِفا اسکو دربارِ محمد سے
ہو ’’دعوتِ اسلامی‘‘ کی دھوم مچی ہر سُو
ٹھہرو گے شَفاعت کے حقدار یقیناً تم
اِخلاص عطا کردو اور خُلق بھلا کر دو!
بے جا نہ ہنسی آئے سنجیدہ بنا دیجے
اللہ کی الفت دو اور اپنی محبَّت دو
بیتاب جگر دیدو اور آنکھ بھی تَر دیدو
عِصیاں کی دوا دیدو سرکار شِفا دیدو
اِس نَفسِ ستمگر کو قابو میں مرے کردو!
دنیا کی محبَّت سے دل پاک مِرا کر دو
رونا بھی سکھا دو اور سِکھلا دو تڑپنا بھی
آنکھوں میں سماجاؤ سینے میں اُتر آؤ
جلووں سے دلِ ویراں آباد کرو جاناں
سگ اپنا مجھے کہہ دو قدموں میں مجھے رکھ لو
قدموں سے لگالو تم دیوانہ بنالو تم
قسمت مری چمکا دو تربت مِری بنوا دو
رَمضاں کی بہاریں ہوں طیبہ کی فَضائیں ہوں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
