میں کھو جاؤں یا مصطفیٰ کہتے کہتے
مدینے کی گلیوں میں دیوانہ بن کر
اسی کو میں ہوش و خرو جانتا ہوں
جو بیٹھے درِ مصطفیٰ کہتے کہتے
میں مرجاؤں ذکر خدا کہتے کہتے
اسی طرح پھر مرتا جیتا رہوں میں
میں طاہر کی صحبت میں جب آ کے بیٹھا
یہ طاہر کی نگہ عطا کا اثر ہے
ملا تیری سنگت میں کملی کا سایہ
فلک پر محمد کا جلوہ دکھایا
ہے طاہر نے عشق محمد پلایا
دلوں میں اتارا ہے قرآن اس نے
وہ دنیا میں نور ھدیٰ مانٹتا ہے
ملا تیری چوکھٹ سے عقبیٰ کا رستہ
ترے سنگ اٹھوں گا حشر میں طاہر
— Sheikh Abdul Aziz Dabbagh\
