اک بار پھر مدینے عطارؔ جا رہے ہیں
قسمت کو اس تصوُّر سے وَجد آرہے ہیں
وہ فیض کا خزانہ ہر دم لٹا رہے ہیں
جو کوئی ان کے غم میں آنسو بہا رہے ہیں
جس دم مدینے آئیں رَوئیں پچھاڑیں کھائیں
حُسنِ عمل ہمارے پلّے میں کچھ نہیں ہے
منظر ہے روح پرور روضے کی جالیوں پر
آقابہیں یہ آنکھیں بس آپ ہی کے غم میں
اِذنِ خدا سے ہو تم مختارِ ہر دوعالم
دستور ہے کہ جس کا کھانا اُسی کا گانا
مَسکَن بنے مدینہ مدفن بنے مدینہ
آقا! بلاؤ اُن کو بے چین مُضطَرِب جو
جن کا نہ بھاؤ کوئی دنیا میں پوچھتا ہو
اُمّت کے حال سے ہیں آگاہ ہر گھڑی آپ
دنیا کے غم نے مارا لِلّٰہ دو سہارا
اب گِھر چکی ہے آقا طوفاں میں اپنی نَیّا
آقا حُضورِ انور! نظرِ کرم ہو ہم پر
چشمِ کرم ہو جاناں سُوئے گناہگاراں
اُن سب مُبلِّغوں کے خوابوں میں اب کرم ہو
پروردگارِ عالی دے جذبۂ غزالی
بیماریِ گُنہ سے ہم کو شِفا دے یارب
دولت کی حرص دل سے اللہ دور کر دے
تَکثِیرِ مال و زَر کی ہرگز نہیں تمنّا
رخصت کی اب گھڑی ہے سر پر اَجَل کھڑی ہے
اب لحد میں عزیزو! جلدی اتار بھی دو
فریاد جانِ عالَم! کوئی نہیں ہے ہمدم
قربان روزِمحشر دامن کا پردہ ڈھک کر
محشر میں بندہ پرور لطف و کرم کے پیکر
صدقے میں مرتضیٰ کے سوزِ بِلال دے دو
ان کے کرم کے صدقے! فضل و کرم پہ قرباں
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
