کون کہتا ہے کہ زینت خلد کی اچھی نہیں
رحم کی سرکار میں پرسش ہے ایسوں کی بہت
تیرہ دل کو جلوۂ ماہِ عرب دَرکار ہے
کچھ خبر ہے میں برا ہوں کیسے اچھے کا برا
اس گلی سے دُور رہ کر کیا مریں ہم کیا جئیں
اُن کے دَر کی بھیک چھوڑیں سروَری کے واسطے
خاک اُن کے آستانے کی منگا دے چارہ گر
سایۂ دیوارِ جاناں میں ہو بستر خاک پر
دَردِ عصیاں کی ترقی سے ہوا ہوں جاں بلب
ذَرَّۂ طیبہ کی طلعت کے مقابل اے قمر
موسم گل کیوں دکھائے جاتے ہیں یہ سبز باغ
بیکسوں پر مہرباں ہے رحمتِ بیکس نواز
بندۂ سرکار ہو پھر کر خدا کی بندگی
رُوسیہ ہوں منہ اُجالا کر دے اے طیبہ کے چاند
خار ہائے دشتِ طیبہ چبھ گئے دل میں مِرے
صبحِ محشر چونک اے دل جلوۂ محبوب دیکھ
اُن کے دَر پر موت آ جائے تو جی جاؤں حسن ؔ
— Hassan Raza Khan Barelvi\
