سب پکارو جھوم کر میٹھا مدینہ مرحبا
ڈوبا رہتا ہے مدینہ روشنی میں ہر گھڑی
نور برساتے مَنارے سبز گنبد کی بہار
جانتے ہو سبز گنبد کیوں حسیں ہے اس قَدَر
پھول مہکے،دھول چمکے،خوبصورت ہر بَبُول
پَوپھٹی تَڑکا ہوا اور چہچہائیں بُلبُلیں
جبکہ چلتی ہے صَبا آقا کا روضہ چوم کر
بَرق چمکی، لہر اُبھری، اَبر برسا اور گیا
عظمتیں ہیں رِفعتیں ہیں نعمتیں ہیں بَرَکتیں
پھول تو پھر پھول ہیں کانٹے بھی اسکے حُسن میں
سنگریزوں کی چمک کے سامنے سب ہیچ ہیں
ہیں فَضائیں خوشگوار اس کی ہوائیں مُشکبار
اس لئے تو ہم کو پیارا ہے مدینہ رہتے ہیں
خُلد کی رنگینیاں شادابیاں تسلیم ہیں
نور کی برسے پُھوار اس میں رہے ہردم بہار
حُسنِ پیرس کا فِدائی بھی یہاں پر جھوم اُٹھے
بکریاں تو بکریاں ،چڑیاں بھی اِس کی محترم
ہجرِ طیبہ میں جو روتے ہیں خدایا ہو نصیب
یارسولَ اللہ کہتے ہی ٹلیں گی مشکلیں
رات روشن دن منوَّر سب سَماں پر نُور ہے
جھوم کر تارے کریں دیدارِ طیبہ روز اور
جو مدینے آگیا عطارؔ آکر مرگیا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
