جو مدینے کے تصوُّر میں جِیا کرتے ہیں
عشقِ سرور میں جو ہستی کو فنا کرتے ہیں
مال ودولت کی دعا ہم نہ خدا کرتے ہیں
آگ دوزخ کی جلا ہی نہیں سکتی ان کو
دُرِّ نایاب بِلاشک ہیں وہ ہیرے انمول
درد وآلام میں تسکین انہیں ملتی ہے
تُو سلام اُن سے درِ پاک پہ جاکر کہنا
کیوں پھریں شوق میں ہم مال کے مارے مارے
سنّتوں کی وہ بنے رہتے ہیں ہر دم تصویر
سنّتوں کے اے مبلّغ! ہو مبارَک تجھ کو
آپ کی گلیوں کے کتّوں پہ تصدُّق جاؤں
سُن لو! نقصان ہی ہوتا ہے بالآخر ان کو
بِالیقیں ایسے مسلمان ہیں بے حد نادان
چاند سورج کا مقدَّر بھی تو دیکھو اکثر
جِھلِملاتے ہوئے تاروں کی بھی قسمت ہے خوب
مسجدِ نبوی کے پُر نور مَنارے ہر دم
جھوم کر آتے ہیں بارِش لئے بادَل جب بھی
بامقدَّر ہیں مدینے کے کبوتر بے شک
رشک عطارؔ کو ان ذَرَّوں پر آتا ہے جو
قابلِ رشک ہیں عطارؔ وہ قسمت والے
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
