رنگینیئے گلاب نہ گلزار چاہیے
دنیا نہ مجھ کو مال کا انبار چاہیے
کعبہ کی عظمتیں مجھے تسلیم ہیں مگر
یہ آرزو ءِدل ہے اب یوں ادا نماز ہو
ہے خلد کی طلب نہ کسی حور سے غرض
اُن کا گنہگار کو تو چاہیے کرم
— Unknown
رنگینیئے گلاب نہ گلزار چاہیے
دنیا نہ مجھ کو مال کا انبار چاہیے
کعبہ کی عظمتیں مجھے تسلیم ہیں مگر
یہ آرزو ءِدل ہے اب یوں ادا نماز ہو
ہے خلد کی طلب نہ کسی حور سے غرض
اُن کا گنہگار کو تو چاہیے کرم
— Unknown