پھر کرم ہو گیا میں مدینے چلا
کیف و مستی عطا مجھ کو کر دے خدا
اے شجر اے ہجر تم بھی شمس و قمر
مسکرانے لگی دل کی اک اک کلی
پھر اجازت ملی جب خبر یہ سنی
وہ اُحد کی زمیں جس کے اندر مکیں
جو ہیں محبوب رب اپنی ان سے ہی سب
ان کے مینار پر جب پڑے گی نظر
ہاتھ اٹھتے رہے، مجھ کو دیتے رہے
کیا کرے گا اِدھر، باندھ رختِ سفر
— Ubaid Raza\
