بولا رب، جب اُسے پکاراچاند اور سورج ہاتھ پر اس کے
حیراں وقت ثبات پر اس کے
بنیادِ اسلام کھڑی ہے
منبرِ ارشادات پر اس کے
گواہ قرآں کا ہر پارہ
بولا رب، جب اُسے پکارالوحِ عمل پیشانی اُس کی
محنت بھی وجدانی اُس کی
حوصلوں کو بھی ناز ہے اُس پر
مشقّتیں دیوانی اُس کی
فاقوں پر بھی اس کا اجارہ
بولا رب، جب اُسے پکارادھوپ بھی اسکی رم جھم رم جھم
تہی دستی بھی مُنعم مُنعم
سایہ بھی اک آئنہ خانہ
خاموشی بھی ایک معلّمِ
لطفِ نظر بھی ایک ادارہ
بولا رب، جب اُسے پکاراسب سے پیارا سب سے چہیتا
پھر بھی اُس پر کیا نہیں بیتا
قائل اس کی سب میزانیں
کرم سے اس کے کوئی نہ جیتا
صبر سے اس کے ظلم بھی ہارا
بولا رب، جب اُسے پکارادل کھینچے اس کی ڈوری نے
روحوں کو بانٹے آئینے
پھول کھلائے صحراؤں میں
طوفانوں کو دیئے سفینے
بن گئی ہر اک موج کنارہ
بولا رب جب اُسے پکاراایک نبی ؐ کے چار خلیفہ
سب کا لیکن ایک وظیفہ
اُس کا ہر اک لفظ شہادت
اُس کا ہر کردار صحیفہ
پڑھنے والے پڑھیں دوبارہ
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
