بول اے سوختہ جاں راحتِ جاں ہے کہ نہیں
سانس میں لمس گھلاتی یہ ہواۓ خضریٰ
پھول تو پھول ہیں کانٹے بھی اماں گیر ہوۓ
مسجدِ نبویؐ سے آتی ہوئی آواز کو سن
فاختائیں ہی نہیں امن بھی رہتا ہے یہاں
دعویٰ عشقِ نبیؐ تو نہیں تاباںؔ لیکن
— Muhammad Abdul Qadir Taban\
