اَفلاک سے اُونچا ہے ایوان محمد کا
پاتے ہیں سبھی صدقہ اُن کے دَرِ اَقدس سے
ہوتی ہے ہر اِک نعمت تقسیم مَدینے سے
دیتے ہیں مَلک پہرہ سرکار کے رَوضے پر
عالم ہے اگر شیدا ان پر تو تعجب کیا
شاہانِ جہاں کیونکر رکھیں نہ سر آنکھوں پر
حور و مَلک و غلماں جن و بشر و حیواں
طیبہ کو جو جاتا ہے کہتے ہیں مَلک باہم
تکلیفِ سفر سے تو دِل تنگ نہ ہو زائر
رُویا میں نہ دیکھا گر وہ چہرۂ نورانی
افسوس کہ اے بلبل تو نے نہ کبھی دیکھا
کیوں چاک ہو غم سے دِل کیوں فوجِ اَلم گھیرے
دنیا کی سبھی باتیں مٹ جائیں مرے دل سے
جب مَدْح و ثنا حق نے قرآن میں فرمائی
تقدیر جمیلؔ اپنی شاہوں سے رہے بڑھ کر
— Jamil Ur Rehman Qadri\
