جو کسی عطا نے خطا کے داغ تمام عمر کے دھو دیے
چلے قافلے لیے آبلے، بڑھے حوصلے گھٹے فاصلے
تھیں عزیز جاں سے جو منزلیں تو عزیز تر رہیں مشکلیں
کبھی جستجو کبھی گفتگو کبھی کوبکو کبھی روبرو
کبھی دیکھنا، کبھی بھیپنا، کبھی مانگنا، کبھی سوچنا
وہ درِ کرم ، وہ رہِ نعم، وہ شب حرم وہ وفورِ نم
وہی بے کلی، وہی تشنگی، وہی بے بسی، وہی خستگی
یہ عیاں ہے آصفِ ناتواں، ترے دل میں درد ہےاک نہاں
— Asif Akbar\
