حضورؐ اقدس زمانے بھر سے گۓ تھے جو تیرگی مٹا کر
یہ زر کے بندے ترے دفینوں پہ ناگ بن کر ڈٹے ہوۓ ہیں
غریب اور بے نوا کے اے دستگیر اندھیر ہورہا ہے
مذاق اڑاتے ہیں، جو اخوت کا نام بھی آج لے رہا ہو
جو نام لے حق کا اس کی گردن میں کفر کا طوق باندھتے ہیں
اسی تعدی کے روکنے کو جہاں میں بعثت ہوئی تھی تیری
میں کچھ ہوں تیرا ہی نام لیوا ہوں میری گردن نہ جھک سکے گی
— Farigh Bukhari\
