اپنے قدموں میں بلا خواجہ پیا خواجہ پیا
ہو کرم بَرحالِ ما خواجہ پیا خواجہ پیا
آہ! کتنی دیر سے میں دور ہوں اجمیر سے
مصطَفٰے کی انبیا کی ہر صحابی اور ولی
یا مُعینَ الدّین اجمیری! کرم کی بھیک دو
شَبَّرو شَبِّیر کا صَدْقہ بلائیں دُور ہوں
آفتوں کی آندھیاں کر دُور دے اَمْن و اماں
دل سے دنیا کی مَحبَّت کی مصیبت دُور ہو
تیری اُلفت میں جیوں تیری مَحبَّت میں مَروں
جھولیاں بھرتے ہو منگتوں کی مجھے بھی ہو عطا
نَے میں سائل راج کا نَے تخت کا نَے تاج کا
یہ سگِ دربار خواجہ! طالبِ دیدار ہے
دشمنوں میں ہوں گِھرا صِدّیق کا صَدْقہ بچا
اُونٹ بیٹھے اُٹھ نہ پائے سارْباں حیران تھے
آ گیاسارا ’’اَناساگر‘‘ تری چھاگَل میں خوب
اپنی منزل سے کبھی بھی وہ بھٹک سکتا نہیں
استِقامت مذہبِ اسلام پر مل جائے کاش!
خاتِمہ بِالخیر ہو میٹھے مدینے میں مِرا
حج کی مل جائے سعادت سبز گنبد دیکھ لوں
کاش!قسمت سے مدینے میں شہادت پاؤں میں
ہو بقیعِ پاک میں تدفین میری خیر سے
ایک ذرّہ ہو عطا عطاّرؔ کے ہو جائیگا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
