بغداد کے مسافِر میرا سلام کہنا
یا پیر غوثِ اعظم!قسمت کُھلے گی کس دم؟
بغداد والے مُرشِد در پر بُلا لے مُرشِد
اپنی رضا کا مرشد مژدہ سنایئے اب
چھا جائے ایسی مستی مٹ جائے اپنی ہستی
کہتا تھا پِیرو مرشِد حق سے دعا یہ کرنا
وعظوں کی تیرے مرشد ہے دھوم چار جانب
جلوہ دکھانا مرشِد کلمہ پڑھانا مرشد
اُفتاد آ پڑی ہے امداد کی گھڑی ہے
سائل نوازِشوں کا کہتا تھا سازشوں کا
عطّاؔر کو بُلا کر مُرشِد گلے لگا کر
— Unknown
