حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
تیری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
ترے قدموں پہ سر کو قربان کرکے
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
مرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں
خدارا اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
خدا خیر سے لاۓ وہ دن بھی نوریؔ
— Unknown
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
تیری کفشِ پا یوں سنوارا کروں میں
ترے قدموں پہ سر کو قربان کرکے
یہ اک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں
مرا دین و ایماں فرشتے جو پوچھیں
خدارا اب آؤ کہ دم ہے لبوں پر
خدا خیر سے لاۓ وہ دن بھی نوریؔ
— Unknown