تِرا شکریہ تاجدارِ مدینہ
حَسیں پتّا پتّا حَسیں ڈالی ڈالی
خدا! دل سے دنیا کی اُلفت مِٹا دے
بُھلا دے چمن کے نظاروں کو بیشک
میں رِضوانِ جنّت کو تحفے میں دونگا
مدینے میں گھر سب کے غمخوار کا ہے
تجھے واسِطہ یاخدا مصطَفٰے کا
اگر ہو یقیں زخم بھر جائیں گے سب
تڑپتے ہیں جو ہِجر و فُرقت میں آقا
اِدھر سے اُدھر کیوں بھٹکتا پھروں میں
مدینے میں مرنے کا مجھ کو شَرَف دو
دو عطّارؔ کو اشکبار آنکھ آقا
— Muhammad Ilyas Atar Qadri\
