خُدا حقیقی خُدا ہے تم سےچھُپے ہُوئے کا ظہور تم ہو
مَیں کیا کہوں کیا حضور تم ہوازل کا اعلان جب ہُوا تھا
جبھی تمھیں وصلِ رب ہُوا تھا
تمھارا اِسم گرامی سُن کر
زمانہ آدم نسب ہُوا تھاتمھاری ایجاد ہے تیقّن
تمھارا شاگرد ہے تمدّنتمام صُبحوں کا نُور تم ہو
مَیں کیا کہوں کیا حضور تم ہوخُدا نے اس دل پہ بھی اُتارا
صحیفہ ء آرزو تمھارا
تمھارے پَیروں سے گَرد اُڑکر
بنی ، مِری صُبح کا ستارامِری تمنّائے ہر عمل تم
مِری دُعاؤں کا ماحصل تم
مِری طلب کا غرور تم ہو
مَیں کیا کہوں کیا حضور تم ہو
تمھارے ذرّے نجوم آقا
تمھاری خلوت ہجوم آقا
مدینہ عِلم ہی نہیں ہو
ہو کائناتِ علم آقا
یقیں کی تحریک تم سے لی ہے
شعور کی بھیک تم سے لی ہے
متاعِ تحت الشّعور تم ہو
مَیں کیا کہوں کیا حضور تم ہو
نہ بندگی پھر اچھوت ٹھہری
اذان، مرگِ سکوت ٹھہری
کِسی نے دیکھا نہ تھا خُدا کو
صدا تمھاری ثبوت ٹھہری
زمیں کے محسن فلک کے محسن
مُجھ ایسے عاصی تلک کے محسن
نہ دِل نہ آنکھوں سے دُور تم ہو
مَیں کیا کہوں کیا حضور تم ہو
ہوس مجھے جتنی بار کھینچے
تمھاری رحمت حصار کھینچے
خدا کو کتنا عزیز ہوگا
جسے محمّؐد کا پیار کھینچے
تمھارے دریا سے چل کے لہریں
مری حدِ تشنگی میں ٹھہریں
مِرا جہانِ سرُور تم ہو
مَیں کیا کہوں کیا حضور تم ہو
مَیں جب سے مدحت سرا ہُوا ہُوں
جبھی سے سارا ہرا ہُوا ہُوں
مگر یہ لگتا ہے اب بھی مُجھ کو
کہ لغزشوں سےبھرا ہُوا ہُوں
ضیائے اعمال کِتنی کم ہے
خُدا کا پھر بھی بڑا کرم ہے
کرم کے پیچھے ضرور تم ہو
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
