جان کا دشمن بھی اُن کو دیکھ کر اُن کا ہُوااُن کی تشریف آوری اُن کی گواہی بن گئی
تیرگی کفّار کی نُورِ سحَر اُن کا ہُواپُوری تاریخ جہاں کی روشنی اُتنی نہیں
لمحے لمحے میں اُجالا جس قدر اُن کا ہُوااُن کے قدموں نے دکھا ئے راستے افلاک کے
ہوگیا اللہ اُس کا ، جو بشر اُن کا ہُوازندگی کیا ، زندگی کے بعد تک واسطے
اُن کا ہو کر رہ گیا جو لمحہ بھر اُن کا ہُوازندگی اُس کی ہَواوں میں دِیے لے کر چلی
جو بڑھا اُن کے طرف ، جو ہمسفر اُن کا ہُوااصل میں عمر ِ وجود اُن کی تھی اُتنی ہی طویل
زندگی کا دَور جتنا مختصر اُن کا ہُواجب مظفؔر بانٹنا چاہا مجھے تقدیر نے
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
