آنکھوں میں بس گیا ہے مدینہ حضور کا
پھر جا رہا ہیں اہلِ محبت کے قافلے
تسکین جاں ہے راحتِ دل وجہ انبساط
نبیوں میں جیسے افضل و اعلیٰ ہیں مصطفیٰ
ہے رنگِ نور جس نے دیا دو جہان کو
جب سے قدم پڑے ہیں رسالت مآب کے
قدسی بھی چومتے ہیں ادب سے یہاں کی خاک
ہر ذرہ اپنی اپنی جگہ ماہتاب ہے
ہو ناز کیوں نہ اُس کو نیازیؔ نصیب پر
— Unknown
