اے صبا لے جا مدینے کو پیام
اے مکین گنبد خضریٰ سلام
اب مدینے میں مجھے بلوائیے
بلبل بے پر پہ ہو جائے کرم
ہند کا جنگل مجھے بھاتا نہیں
زندگی کے ہیں مدینے میں مزے
زندگی کے ہیں مدینے میں مزے
خلد کی خاطر مدینہ چھوڑ دوں
خلد کے طالب سے کہہ دوں بے گماں
مجھ سے پہلے میرا دل حاضر ہوا
کتنی پیاری ہے مدینے کی چمک
کتنی بھینی ہے مدینہ کی مہک
یا رسول اللہ از رحمت نگر
بس انوکھی ہے مدینہ کی بہار
کتنی روشن ہے یہاں ہر ایک شب
کیا مدینہ کو ضرورت چاند کی
نور والے صاحب معراج ہیں
اے خوشا بخت رسائے اخترؔت
— Mufti Akhtar Raza Khan Qadri Azhari\
