کعبہ میرے دل میں ہے مدینہ ہے نظر میں
کٹتے ہیں شب و روز مدینے کے سفر میں
ہر گام پہ آنکھوں سے ٹپک جاتے ہیں سجدے
اُس درپہ دعاؤں کی ضرورت نہیں ہوتی
اُس شہر سے سورج بھی گزرتا ہے مودب
اُس در کے ہادی کا کہا بھی تو رہے یاد
کعبے میں تو بے شک کوئی بت نہ ملے گا
مر جاؤں تو اقبالؔ مجھے خلد کے بدلے
— Unknown
