مدعا زیست کا میں نے پایا
شکر میں سرکو جھکانے کے لۓ
پہلے اشکوں کےدریچے کھولوں
نعت جو ابر کرم کہلاۓ
دل یہ کہتا ہے مچل جانے سو
— Adeeb Raye Puri\
مدعا زیست کا میں نے پایا
شکر میں سرکو جھکانے کے لۓ
پہلے اشکوں کےدریچے کھولوں
نعت جو ابر کرم کہلاۓ
دل یہ کہتا ہے مچل جانے سو
— Adeeb Raye Puri\