ہو نگاہِ کرم یا شفیع امم
دور دوری کرو آس پوری کرو
دل پریشان ہے روح مضطر میری
کیسے درپہ آؤں میں گناہوں بھرا
عشق دل میں بھرو سینہ نوری کرو
گھیرا ڈالا بلاؤں نے ثاقبؔ کو
— Unknown
ہو نگاہِ کرم یا شفیع امم
دور دوری کرو آس پوری کرو
دل پریشان ہے روح مضطر میری
کیسے درپہ آؤں میں گناہوں بھرا
عشق دل میں بھرو سینہ نوری کرو
گھیرا ڈالا بلاؤں نے ثاقبؔ کو
— Unknown