سدا سکینت اثر ہو درود کی تسبیح
بعید کیا تیری رحمت سے تو جو دے توفیق
زباں کا ورد ہو سبحان ربی الا علی
ہوں اس کے ساتھ ہم آہنگ دھڑکنیں دل کی
ہو دل کی نبض کی سانسوں کی خوں کی گردش کی
ہو پورا ذکر پردیا خلوصِ نیت میں
ہو مردہ دل مرا، بیدار اور زندہ کوئی
گرا رہا ہے شب و روز دانہ دانہ وہ
ستارے کا ہکشائیں ہیں جس کے دانے ریاضؔ
— Riaz Majeed\
