خیالات ضم ہو گئے ذات میںمَیں اُن کے تصوّر میں روتا رہا
نکلتی رہی دُھوپ برسات میںخُدا کو مُحمّؐد ہیں سب سے عزیز
محمّؐد کا دامن مِرے ہاتھ میںمَیں ہُوں خاک روبِ درِ مصطفےٰ
مِری جھونّپڑی ہے محلّات میںرہیں پیش پیش آپ کی رحمتیں
ثنا میں دُعا میں مناجات میںوہ ہر شعبہء زندگی پر محیط
وہ منبر پہ سجدوں میں غزوات میںمُحمّدؐ کا ہر سانّس محفوظ ہے
بخاری موطّا و مشکوٰۃ میںٹھکا نہ مظفّؔر مِری رُوح کا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
