ہم کو مِلا حضور، خُدا آپ کے طفیلکہسارِ ابر ٹھہرے ہُوئے ہیں خلاؤ ں میں
چلتی ہے پانیوں پہ ہَوا آپ کے طفیلتہذیب کا عَلَم لیے نکلی درندگی ،
چیخوں سے گیت بنتا گیا آپ کے طفیلتلوار چھین لی گئی ظالم کے ہاتھ سے
مظلوم سر اُٹھا کے چلا آپ کے طفیلسچّائیاں طلوع ہُوئیں گھر سے آپ کے
حق کی ہُوئی بلند صدا آپ کے طفیلصحراؤں میں سبیل لگی صرف آپ کی
طوفان میں چراغ جلا آپ کے طفیلکتنی چمک رہی ہے مظفّؔر کی زندگی
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
