میرے آقا کے مُجھ پر ہیں اِتنے کرم اب کسی کے کرم کی ضرورت نہیںہر طلوعِ سحر جن کے سائے تلے ‘ جن کی آہٹ سے نبضِ دو عالَم چلے
اُن کے قدموں سے لگ کر ہُوں بیٹھا ہُوا مُجھ کو جاہ و حشم کی ضرورت نہیںحُسنِ خلّاقِ کون و مکاں دیکھ لوں ‘ جو نہ دیکھا کبھی وہ سماں دیکھ لُوں
مُجھ کو آئینہء مصطفےٰ چاہیے پتّھروں کے صنم کی ضرورت نہیںدُور سے آنے والی اُس آواز پر ‘ مر مٹوں جس میں ہو عشقِ خیر البشرؐ
سُوئے خیر البشر جو نہ لے کر چلے ‘ اُس نشانِ قدم کی ضرورت نہیںمیری ہر سانّس عشقِ نبی میں ڈھلے ‘ یہ وہ سِکّہ ہے عقبیٰ میں بھی جو چلے
صرف دُنیا میں جو خرچ کی جاسکے مجھ کو ایسی رقم کی ضرورت نہیںکُچھ نہ کرنی پڑے گی تلافی مجھے ، مِل ہی جائے گی حق سے معافی مُجھے
عشقِ شاہِ پیمبر ہے کافی مجھے رختِ راہِ عدم کی ضرورت نہیںکعب و حسّان کے ساتھ لائیں گے وہ میری بخشش مظفّؔر کرائیں گے وہ
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
