یعنی رب کی ثنا کر رہا ہوںنعت بھی میرا حسن ِطلب ہے
اس گلی میں صدا کررہا ہوںان کے دریا میں مجھ کو ڈبو دے
منتِ ناخدا کر رہا ہوںچل رہا ہوں مدارِ حرم میں
یا طواف ِحرا کر رہا ہوںزندگی ان پہ قربان کر کے
قرض ایماں ادا کررہا ہوںگنبد مصطفےؐ سے لپٹ کر
زخمِ دل کو ہرا کر رہا ہوںکیوں نہ ہو غیر حاضر مظفر
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
