پھولوں کی بہاریں بھول گۓ کیسے ہیں ستارے بھول گۓ
سرکار جہاں بھی یاد آۓ پھر یاد نہیں کوئی آیا
کچھ اتنا کرم فرماتے ہیں سرکار تو اپنے منگتوں پر
ہے سب یہ عطاۓ عشقِ نبی اشکوں کی نئ توقیر ملی
دل محو ہےیادِ سرور میں طوفان کاکوئی خوف نہیں
اب پھول برستےرہتےہیں آنکھوں سے بجاۓ شعلہ غم
عزت بھی ملی شہرت بھی ملی دنیا کی سیادت بھی پائی
قرآن سے ہم بے بہرہ ہیں کیا عشقِ نبی کہتے ہیں اسے
کیا معجزہ ہاۓ شمس وقمربھی بھولنےوالی باتیں ہیں
جب نام نبی کا اے خالدؔ لکھا ہوا کشتی پر دیکھا
— Khalid Mehmood Khalid\
