منگتوں کو سلطان بنایا میرے کملی والے نے
جس پر اپنا رنگ چڑھایا میرے کملی والے نے
مال و زر کی بات نہیں ہےیہ توکرم کی باتیں ہیں
جس کو حقارت سے دنیانے دیکھا اور منہ پھیر لیا
جتنا خرچ میں کرتا جاؤں اُتنا بڑھتا جاۓ ہے
دشمن کی بھی پیاس بجھائی اپنے بھی سیراب ہوۓ
غم کی دھوپ تھی میرے سرپر اور پریشاں حال تھا میں
خود تو ٹھہرے ختم الرسل اور غوث پیا جیلانی کو
صحرا صحرا پھول کھلاۓ نقشِ قدم کی برکت سے
اُن کا تصور کرتے کرتےمیں بھی مدینے جا پہنچا
نعت علیم زباں پر آئی میری قسمت جاگ اٹھی
— Unknown
