جسم موجود ہے سایا گم ہےعشق میں اُن کے گرفتار ہے عقل
درد میں اُن کے مسیحا گم ہےان کی جلوت کی حدیں کیا ہونگی
جن کی تنہائی میں دنیا گم ہےاُن کا کردارٗ ترقی کا اصول
اُن کے امروز میں فردا گم ہےانکی چپ میں بھی قیامت کا وقار
چاپ میں نغمہء دریا گم ہےخوشبوئیں ،اُن کے پسینے کا نچوڑ
جس نے اس پھول کو سونگھا گم ہےان کی دہلیز پہ بیٹھی ہو گی
دل تو ہے دل کی تمنا گم ہےڈوب کر پار اترنا ہو گا
اِس سمندر میں کنارا گم ہےکیا مظفر نے نہ جانے دیکھا
تیرے تیور، میرا زیور
تیرا شیوہ، میرا مسلک
مجھ کو عشق نبی، اس قدر مل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکس دروں
صاحبّ التّاج وہ شاہ معراج وہ شہسوار بُراق و امیر عَلَم
