کتنی پرنور حسیں ہے بخدا آج کی رات
راز کی باتوں کے لائق نہ تھی قاصد کی زباں
جب انہیں سدرہ سے جاتے ہوۓ تنہا پایا
پھول خورشید' صبا' چاند ستارے شبنم
چال بادل نے سکوں بحر نے خوشبو گل نے
جب سرِ بزم کبھی نعت سنائی نازش
— Hanif Nazish\
کتنی پرنور حسیں ہے بخدا آج کی رات
راز کی باتوں کے لائق نہ تھی قاصد کی زباں
جب انہیں سدرہ سے جاتے ہوۓ تنہا پایا
پھول خورشید' صبا' چاند ستارے شبنم
چال بادل نے سکوں بحر نے خوشبو گل نے
جب سرِ بزم کبھی نعت سنائی نازش
— Hanif Nazish\