پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
دل نکل جانے کی راہ ہے آہ کن آنکھوں سے وہ
ہاں چلو حسرت زیادہ سنتے ہیں وہ دن آج ہے
کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہےکہ وہ
لو وہ آۓ مسکراتے ہم اسیروں کی طرف
سوختہ جانوں پہ وہ پُرجوش رحمت آۓ
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولا کی دھوم
خاک ہو جائیں عدو جل کر مگرہم تو رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
