سارے عالم میں تِرا راج مدینے والے
کل تلک تابِ شکیبائی کہاں سے لاؤں
تِری نسبت کے تقاضوں کو نبھاؤں کیسے؟
جو کُھرچ دیتا ہےزنگار دلوں سے کالک
اپنی کملی میں چھپا کرمجھے روزِ محشر
در پہ بٹتے ہوۓ گنجینے لیےشاہوں نے
تیری توصیف ہو الطافؔ کے لب پر جاری
— Syed Altaf Hussain Gillani\
