مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شہر یارِ اِرم تاجدار حرم
شبِ اسریٰ کے دولہا پہ دائم درود
ہم غریبوں کے آقا پہ بے حد درود
طائران قدس جس کی ہیں قمریاں
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا
نیچی آنکھوں کی شرم و حیا پر درود
پتلی پتلی گل قدس کی پتیاں
وہ دہن جس کی ہر بات وحیِ خدا
جس سے کھاری کنویں شیرۂ جاں بنے
وہ زباں جس کو سب کن کی کنجی کہیں
اس کی باتوں کی لذت پہ لاکھوں درود
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑے
ہاتھ جس سمت اٹھا غنی کر دیا
جس کو بارِ دوعالم کی پروا نہیں
نور کے چشمے لہرائیں دریا بہیں
کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا
کھائی قرآں نے خاکِ گزر کی قسم
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
سیدہ زاہرہ طیبہ طاہرہ
حسن مجتبیٰ سیدالاسخیا
بنت صدیق آرامِ جانِ نبی
ایک میرا ہی رحمت پہ دعویٰ نہیں
کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو
مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضاؔ
— Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi\
