کیا شان ہے تیری صلّ علٰی یا عبدالقادر جیلانیؓ
ہے وِرد یہی اب صبح و مسا یا عبدالقادر جیلانیؓ
جب آپ کا دامن تھام لِیا یا عبدالقادر جیلانیؓ
کِس دَر پہ جُھکائیں سَر اپنا ہم کِس کو سُنائیں حال اپنا
ہُوں گرچہ سراپا جُرم و خطا ہے لاج تُمہارے ہاتھ شہا
کونین پہ تیرا قبضہ ہے ہر جا پہ سِکّہ چلتا ہے
جو دَر پہ تِرے آ جاتا ہے وہ دِل کی مُرادیں پاتا ہے
جب حشر میں جاؤُں پیشِ خُدا ہو ہاتھ مِرا دامن تیرا
جو تیرا کھاتا پیتا ہو جو تیرے سہارے جیتا ہو
جو دِل کی خواہش ہوتی ہے وہ فوراً ہی بَر آتی ہے
ولیوں کے سَر پہ قدم جِس کا، چورں کو جو دے ابدال بنا
طغیانئ عِصیاں کے آگے کمزور ہے لنگر توبہ کا
جو آپ کے دَر کا بندہ ہو گھر اور نہ ہو کوئی جِس کا
اللہ نے سب قُدرت دی ہے قادر کے ہو تم قادر بندے
کمزور سمجھ کر دُنیا میں اغیار دباتے ہیں ہم کو
میں شومئ قِسمت کا مارا گردابِ ہَوَس میں سخت پھنسا
مُشتاقؔ درِ اقدس پہ کھڑا رو رو کے یہی دیتا ہے صدا
— Mushtaq Goalra Shareef\
