کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے، وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں، وہ ہے بدلتی ہوئی رتوں میں
نظر بھی رکھے سماعتیں بھی، وہ جان لیتا ہے نیّتیں بھی
کسی کو تاج و وقار بخشے، کسی کو ذلت کے ہار بخشے
سفید اس کا سیاہ اس کا، نفس نفس ہے گواہ اس کا
— Muzaffar Warsi\
