سینے میں رہی تخلیۃ شب کی مناجات
ظاہر ہو وہ کس روز ہنر میں' کسے معلوم!
اشکوں کی زباں سے ہے ادا ہونے کو بیتاب
یہ بات بھی ہم اہلِ جہاں کو نہیں معلوم
ہر آدمی دنیا کا ہم احساس لگے ہے
سوگوشیوں میں ہوتی ہے آواز سے عاری
آنسو ہی سب احوال بتا دیتے ہیں اس کے
جب طرزِ ادا سے نہ تھا واقف یہ سخن زاد
دنیا کی طرح کی ہے ریاضؔ آس مری بھی
— Riaz Majeed\
