تیرے گنبد کے پر اسرار نظارے دیکھوں
اے مرے ماہِ مبیں! خواب میں دیکھوں تجھ کو
کبھی دیکھ آؤں ثقیفہ میں ابوبکر کا فیض
کبھی فاروق میں دیکھوں تری خواہش کا وفور
کبھی دیکھوں تری بیٹی سے عقیدت تیری
کُھلتی جائیں ابوطالب کی وفائیں ساری
جن کے دامن میں تری آل کی تکریم نہیں
— Faiq Turabi\
