یا شفیع امم اللہ کر دو کرم
منتشرہیں خیالات کی وادیاں
تیری چوکھٹ کے مانگت ہیں جائیں کہاں
تیری یادوں سے معمور سینہ رہے
کس کو جا کر کہیں تاجدار حرم
یانبی اپنی الفت کی سوغات دے
چھوڑ کر تیرا در کیوں پھروں در بدر
حاضری ہو نیازی کی دربار میں
— Abdul Sattar Khan Niazi\
