مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
طوافِ کوچۃ جاناں کے قابل کون سمجھے گا
کہاں میں اور کہاں اس روضۃ اقدس کا نظارہ
مدینے جاکے ہم سمجھے تقدس کِس کو کہتے ہیں
وہی اقبالؔ جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
— Iqbal Azeem\
