پھر مدینے کی گلیوں میں اے کردگار
کاش آ کر مدینے میں پروانہ وار
مال و دولت کے انبار بیشک نہ دو
ساقیا جام ایسا پلادو مجھے
چومتا رہتا نَعلین، سرکار کے
آگیا حج کا موسِم قریب آگیا
سندھ کے باغ آنکھوں میں جچتے نہیں
ہم سبھی ان کے دَربارِ دُربا ر میں
از طفیلِ بِلال و اُوَیس و رضا
مجھ کو آلامِ دُنیا سے آزاد کر
آپ کا نام سنتے ہی سرکار کاش
میرا سینہ مدینہ بنا دیجئے
گر پڑو اُن کے قدموں میں روتے ہوئے
اب تو آجایئے مجھ کو چُھڑوایئے
میرے آقا! سِرہانے چلے آئیے
میری آمد ہو طیبہ میں اے کاش یوں
بھائیو، بہنو اپناؤ تم سُنّتیں
موت بدکار کو آئے طیبہ میں پھر
یاخدا بے سبب بخش عطّارؔ کو
— Unknown
