چھوڑ کے تیرا دامنِ رحمت آقاﷺ ہم سے بھول ہوئی ہے
حد سے گزری ہے نادانی کوئی بھی تیری بات نہ مانی
بن گۓ سیم وزر کے بندے تن کے اجلے بن کے گندے
جس کی خاطر دین گنوایا اس دنیا سے بھی کچھ نہ پایا
علم وعمل کا رشتہ ٹوٹا جب سے تیرا دامن چھوٹا
دیکھ ہماری آنکھ مچولی اپنے سینے اپنی گولی
درپہ تیرے آۓ ہوۓ ہیں دامن کو پھیلاۓ ہوۓ ہیں
— Unknown
