قلب عاشق ہے اب پارہ پارہ
تیرے آنے سے دل خوش ہوا تھا
مسجدوں میں بہار آگئی تھی
بزمِ افطار سجتی تھی کیسی
تیرے دیوانے اب رو رہے ہیں
یاد رمضاں کی تڑپا رہی ہے
تم پہ لاکھوں سلام ماہِ رمضاں
نیکیاں کچھ نہ ہم کر سکے ہیں
جب گزر جائیں گے ماہ گیارہ
ماہ رمضاں کی رنگیں ہواؤ!
کچھ نہ حسن عمل کر سکا ہوں
سگِ عطار بدکار کاہل
— Unknown
